چنتامنی:8 /ستمبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)تجارتی مرکزکا شہر چنتامنی کے کئی وارڈوں کی خواتین ودیگر احباب نے تعلقہ دفتر کا گھیراؤ کرتے ہوئے زبردست احتجاج کیا ۔ جس میں اس بات پر ناراضگی ظاہر کی گئی کہ پچھلے چند دنوں سے راشن ڈپو سے اناج حاصل کرنے کے لئے اور کروسین تیل حاصل کرنے کے لئے سائبر سنٹرس سے ایک محکمہ خوراک ڈپارنمٹ کی تھم دیکرسلپ لیجانا پڑتا ہے اگر سلپ لیکر نہیں گئے تو راشن ڈپو سے اناج نہیں دیا جارہا ہے سائبر سنٹرس سے ایک راشن کارڈ کا سلپ لینا ہوں تو 10روپئے دینا پڑتا ہے اُس کام کے لئے یہاں کی محکمہ خوراک و شہری رسد نے صرف تین چار سائبر سنٹروں کو ہی اجازت دی ہے ۔ احتجاجیوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت فوراََ راشن ڈپو سے اناج لینے کے لئے سلپ لینے کا قانون مسترد کرے۔ احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ سائبر سنٹرس والے صرف ایک سلپ دینے کے لئے عوام سے دس روپئے وصول کرکے عوام کولوٹ رہے ہیں اگر حکومت نے اس قانون کو فوراََ مستر نہیں کیا تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی اور ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو بھوک ہڑتال کی جائے گی ۔
احتجاجیوں نے کہا کہ محکمہ خوارک و شہری رسدات کے کمشنر کی جانب سے جاری کئے گئے سرکیولر سے غریبوں کو غیرضروری طور پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسلئے سرکیولر کی آڑ میں ڈپو مالکان غریبوں کو دئے جانے والے راشن کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں تعلقہ میں تقریبا کئی راشن کارڈوں کو منسوخ کیا گیا ہے چند ڈپو مالک اس مہینے میں اناج نہیں دے رہے ہیں راشن کارڈ رکھنے والوں سے کہہ رہے ہیں جب تک راشن کارڈ کو آدھار نمبر نہیں جھوڑا جاتا اُس وقت تک ڈپو سے اناج نہیں ملے گا ۔چند ڈپو مالک مہینے میں صرف ایک ہی دن راشن دیکر ڈپو بند کردیتے ہیں ان ڈپو مالک کیخلاف متعلقہ افسران کوئی بھی کارروائی نہ کرتے ہوئے ان کی تائید کررہے ہیں۔چنتامنی شہر میں کئی سرکاری ملازمین کے پاس بی پی ایل راشن کارڈ ہے اور کئی مالداروں کے پاس بھی بی پی ایل راشن کارڈ ہے لیکن متعلقہ افسران کو معلوم ہونے کے باوجود ان کے راشن کارڈ کو منسوخ کرکہ قانونی کارروائی کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں شہر کے کئی مستحق لوگوں کو اے پی ایل راشن کارڈ دیا گیاہے۔ عوام نے الزام لگایا کہ یہاں کے فوڈ آفس میں 2000روپئے رشوت دینے پرلمحوں میں بی پی ایل راشن کارڈ مل جاتا ہے ۔ اس بات کا بھی الزام لگایا گیا ہے کہ کئی راشن کارڈوں کو برسوں سے راشن ہی نہیں دیا جارہا ہے ڈپو مالک کہتے ہیں کہ تمہارے راشن کارڈ کا نمبر راشن کے لسٹ میں نہیں آیا اس طرح کے کئی جھوٹے بہانے بناتے ہیں۔احتجاجیوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت تھم دینے کے قانون کو مسترد کرنا نہیں چاہتی تو چنتامنی حلقہ میں تھم دینے کے لئے مزید سائبر سنٹرس کو اجاز ت فراہم کی جائے تاکہ عوام کو پریشانی نہ ہو ۔اس موقع پر تحصیلدار اور محکمہ خوراک کے افسران نے جائے وقوع پر پہنچ کر دلاسہ دلانے کی کوشش کی لیکن احتجاجی خواتین اوردیگر لوگوں نے برہم ہوکر افسران کو آڑے ہاتھوں لیا اورتعلقہ دفتر میں گھس کر توڑ پھوڑ مچانے کی کوشش کی۔ اس دوران محکمہ پولیس نے فوری طور پر احتجاجیوں پر قابو پالیا ۔ احتجاج میں حسینہ بیگم ،انجما ،طاہر ہ ،مبینہ تاج، شرین تاج ، زیبہ انجم فاطمہ منجولہ ناگ منی فوزیہ سلطانہ افسر پاشاہ نور اللہ ،اللہ بخش اکر م پاشاہ، عمران پاشاہ ، آر کے عمران خان سمیت کئی لوگ موجود تھے۔